Opposition Leader ki Tabdeli By Muhammad Abdhu

Created on Thursday, 28 September 2017 15:02 | 925 Views
  • Print
  • Email

Opposition Leader ki Tabdeli By Muhammad Abdhu


نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کا سب سے مضبوط گھوڑا ہے۔

پچھلے دنوں لندن میں سیاسی ماہرین کی نوازشریف کی قیادت میں میٹنگ ہوئی جس میں چند قانونی ماہرین بھی شامل تھے۔ پلان کے تحت یہ فیصلہ ہوا کہ نوازشریف کو وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد اداروں نے ہی کرنا ہے اور نیب سمیت تمام ادارے اپنے کنٹرول میں ہیں ایسے میں عدلیہ اکیلی کچھ نہیں کرسکتی۔ حکومت بھی اپنی ہے۔ مزید چند ماہ بعد سینٹ میں بھی ہماری اکثریت ہوجائے گی۔ اگر کہیں عدلیہ کا دباؤ آیا بھی تو اپوزیشن لیڈر ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا اور ملکر اداروں میں من مرضی تعیناتی کرکے عدلیہ کے احکامات کو تاخیر میں بدلتے رہیں گے اور پھر نئے جنرل الیکشن کا وقت آجائے۔ وہاں بھی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ملکر نیب سے لیکر الیکشن کمیشن تک ہر جگہ مرضی کے کام کریں گے جس کے نتیجے میں اگلی حکومت بھی ہماری ہوگی اور پھر عدلیہ کو بھی دیکھ لیں گے۔



یہ سارا پلان بنانے کے بعد پیپلزپارٹی سے منظوری لی گئی اور میاں صاحب نیب میں پیش ہونے اور پرچی پر لکھی جذباتی تحریریں پڑھ کر سنانے کیلئے وطن عزیز واپس آگئے کہ پاکستان کو اس کی راہ پر چلنے دو اور اہلیت و نااہلی کے فیصلے 20 کروڑ عوام کو کرنے دو۔ میں نے سب سے بڑا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو قائداعظم کے پاکستان 20 کروڑ عوام کے حق حکمرانی اور 70 برس میں نشانہ بننے والے وزرائے اعظم کا مقدمہ ہے۔ میں یہ مقدمہ لڑتا رہوں گا۔ میاں صاحب کی وزرائےاعظم کو انصاف دلانے کی یہ جنگ کیا صرف قیام پاکستان سے 1986 تک کے وزرائےاعظم کیلے ہوگی یا 1986 کے بعد والے وزرائےاعظم بھی مستفید ہوں گے۔



جبکہ سیاست میں ابھی بھی وہ لوگ موجود ہیں جو اس کردار کے گواہ ہیں جو میاں صاحب نے اپنی وزارت اعلی پنجاب کو بچانے کیلے جونیجو حکومت گرانے میں ادا کیا۔ وزیراعظم جونیجو کے خلاف آمر ضیاء کی حمائت کی اور سازش کرکے جونیجو حکومت ختم کروائی۔ جبکہ اس وقت کے تمام سرکردہ سیاستدانوں نے نواز شریف کو اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔ پھر بینظیر حکومت کو بننے سے روکنے کیلئے اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ ملکر سازشیں کیں۔ اور بالآخر حکومت گرانے میں کامیاب بھی ہوگئے۔ اور اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا۔ جبکہ اپنی حکومت کے ختم ہونے پر جمہوریت کے خلاف سازش نظر آئی۔ اور ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بینظیر حکومت کے خلاف مہرہ بن گئے اور حکومت ختم کروا کے جمہوریت کو بچا لیا۔ پھر اپنی حکومت تو بنالی مگر سازشی حرکتوں کے باعث حکومت ختم کروائی تو جمہوریت پھر خطرے میں نظر آئی۔ گیلانی کے خلاف کی گئی حرکتیں تو ابھی ماضی قریب کا حصہ ہیں۔ میاں صاحب کی ان حرکتوں کے باعث یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان کے نزدیک جمہوریت صرف شریف خاندان کی حکمرانی کا نام ہے۔



یہ سب دیکھتے ہوئے تحریک انصاف نے بروقت فیصلہ کیا اور نئے مک مکا کو ختم کرنے کیلئے اپوزیشن لیڈر تبدیل کرنے کیلے جدوجہد شروع کی اور آج کی خبروں کے مطابق تحریک انصاف اور متحدہ میں اپوزیشن لیڈر تبدیل کرکے شاہ محمود قریشی کو بنانے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ فریقین نے موقف اختیار کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پیپلزپارٹی کا ہے جبکہ انکا کردار فرینڈلی اپوزیشن کا کردار رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے مسائل پر کبھی بات نہیں کی عوامی مسائل پر سمجھوتا کیا گیا۔ صرف قومی اسمبلی میں ذاتی مفادات کا تحفظ کیا۔ اور خدشہ ہے نیا مک مکا نہ ہوجائے اور ہم اس کی نذر نہ ہوجائیں۔ نئی سیاسی ہلچل کے بعد لگتا ہے۔ ملک کا سیاسی منظرنامہ تبدیل اور حکومت کا مشکل وقت اب شروع ہونے جارہا ہے۔