Farsh say Arsh tak ka Safar By Yar Muhammad Khan Niazi

Created on Friday, 04 August 2017 06:13 | 459 Views
  • Print
  • Email

Farsh say Arsh tak ka Safar By Yar Muhammad Khan Niazi

عائشہ گلالئی وزیر جسکو تحریک انصاف نے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیا تھا کو آج پارٹی میں 5 سال گزارنے کے بعد پتہ چلا کہ تحریک انصاف میں عورتوں کی عزت نہیں کی جاتی ہے اور آج ہی کے دن انہیں یہ معلوم ہوا کہ خان صاحب نے انکو ذومعنی میسجز کیئے ہیں.

ہم مان لیتے کہ وہ جو کہ رہی ہے وہ ٹھیک کہہ رہی ہے لیکن خان صاحب پر الزامات لگانے کے فوری بعد گاڈفادر نااہل نوازشریف کی تعریف کردینا کیا یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے.

اصل کہانی کیا ہے اسکو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں. عائشہ گلالئی وزیر کے آباؤ و اجداد کا تعلق جنوبی

وزیرستان سے ہے اور انکا تعلق ڈومیل بنوں سے ہے. لیکن رہتی وہ اسلام آباد یا پشاور میں ہیں. عائشہ گلالئی وزیر کو تحریک انصاف اور عمران خان نے خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اےبنایا. تحریک انصاف سے پہلے محترمہ پیپلز پارٹی میں تھیں اسکے بعد پی ایم ایل قاف میں چلی گئی اسکے بعد جب الیکشن نزدیک آئے تو تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی. انکے متعلق کرپشن کے کافی سارے قصے چل رہے ہیں. جو پھر کبھی شیئر کرینگے. محترمہ کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے اپنا فنڈ کئی بار کمیشن پر بیچا. محترمہ کی یہ خوبی ہے اپنے والد کی طرح کہ بات کا بتنگر کیسے بنایا جاتا ہے. جو لوگ اسکے والد کو جانتے ہیں وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اسکا باپ ایک نمبر کا لالچی، کم عقل اور بے وقوف انسان ہے اور جب کبھی آپ انکے والد سےملاقات کا شرف حاصل کرینگے تو آپکو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ وہ کتنی لمبی لمبی چھوڑتے ہیں. خیر محترمہ جب تحریک انصاف میں شامل ہوئیں تو انکا سب سے بڑا ٹارگٹ یہ تھا کہ خان صاحب سے کسی طرح اسکی شادی ہوجائے لیکن جب خان نے ریحام سے شادی کی تو انکو کافی بڑا دھچکا لگا تھا. جب خان کی ریحام سے طلاق ہوگئی انکی امیدیں دوبارہ سے جاگ گئیں لیکن خان نے انکو اس سلسلے میں بالکل لفٹ نہیں کرائی.

محترمہ چاہتی تھی کہ اسے این اے 1 کا ٹکٹ دیا جائے اور اسی سلسلے میں اس نے پشاور میں اپنی مصروفیات بھی بڑھا دی تھیں. پشاور میں رہنے والے اسکی گواہی دینگے. اگر کسی کو یاد ہو تو ابھی چند ماہ پہلے پشاور میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف تحریک انصاف کے ناظم، ایم پی ایز نے احتجاج کیا تھا جبکہ اسی دن محترمہ نے علیحدہ سےاحتجاج کیا تھا. جب ضلعی ناظم کی سربراہی میں تحریک انصاف کے وفد نے پیسکو چیف اور متعلقہ افسران سے کامیاب مزاکرات کیئے تو محترمہ نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ پیسکو چیف اس سے ملاقات کرے اور اسکے مطالبات کو منظور کرے ورنہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھینگے. مطلب محترمہ صرف اپنے نمبر بنانے کے چکروں میں تھی اور بعد میں میڈیاکے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے محترمہ نے کہا تھا کہ واپڈا کے خلاف احتجاج کی کال اور پروگرام اس نے بنایا تھا جسکو تحریک انصاف کے ناظم اور دیگر ارکان نے ہائی جیک کرکے سارا کریڈٹ خود لے لیا. محترمہ کافی خود پسند، گمنھڈی، جھوٹی اور مکار عورت ہے اور اسے بخوبی یہ گر پتا ہے کہ اسکا کس طرح سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے.

جس حلقے کے ٹکٹ کے لیئے یہ ڈیمانڈ کررہی تھیں یہ وہ حلقہ ہے جہاں سے 2013 کے جنرل الیکشن میں عمران خان نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن سیٹ چھوڑنے کے بعد یہاں سے اے این پی کے امیدوار غلام بلور جیتے تھے. اس حلقے میں تحریک انصاف کے پاس بہت مضبوط امیدوار موجود ہیں جیسے کہ حاجی شوکت علی خان وغیرہ. جب حاجی شوکت علی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تب بھی محترمہ کو کافی صدمہ پہنچا تھا لیکن وہ اس امید پر اپنی کوشش کرتی رہی کہ خان صاحب اسے ٹکٹ دے دینگے.

محترمہ نے پرویز خٹک صاحب پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں جنکا وہ کوئی بھی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر ہیں. ان الزامات کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے وہ یہ کہ محترمہ نے کئی بار پرویز خٹک صاحب سے فنڈز کیلئے درخواست دی جو خٹک صاحب نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دی تھی. جسکا جواب آج محترمہ نے ان پر کرپشن کے الزامات لگا کر دیا.

محترمہ نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ خان صاحب نے اسے غلط اور ذومعنی ٹیکسٹ میسجز کیئے ہیں اور یہ کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے تحریک انصاف میں خواتین کی عزت ناممکن ہے تو محترمہ میڈیا کو وہ سارے ٹیکسٹ میسجز بھی دکھا دیتی. محترمہ اگر یہ سمجھتی ہیں کہ وہ جو کہینگی پاکستانی اسکی بات مان لینگے. یہ محترمہ کی غلط سوچ کی عکاسی کرتی ہے. میں کھل کے لکھ نہیں سکتا کیونکہ میری تربیت اچھے گھرانے میں ہوئی ہے جہاں ہمیں خواتین کی عزت کرنا سکھایا گیا ہے. ورنہ ایسی ایسی باتیں لکھ دیتا کہ اسکے چور اور لالچی باپ کو تاحیات یاد رہتا کہ انکا واسطہ تحریک انصاف کے جنونیوں سے پڑا ہے.

محترمہ پارٹی چھوڑنے کا ڈرامہ پہلے بھی کرچکی ہیں جسکی بعد میں اسنے تردید کردی تھی. تازہ واقعات و حالات کیمطابق محترمہ کو یوم تشکر جلسے میں تقریر نا ملنے پر سخت ناراضگی تھی. جسکا محترمہ نے بنی گالا میں خان صاحب کیساتھ ملاقات کے دوران بھی اظہار کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر مراد سعید کو تقریر کرنے کی اجازت ہوسکتی ہے تو مجھے کیوں نہیں تقریر کرنے دی گئی. اسکے علاوہ اسی میٹنگ میں محترمہ اپنے ساتھ این اے ون پشاور کا وفد لیکر گئی تھی کہ اسے تحریک انصاف کی طرف سے این اے ون کا ٹکٹ دیا جائے. لیکن جب خان صاحب نے جواب دیا کہ میں کیسے تمھیں ابھی سے ٹکٹ دے دوں یہ فیصلہ پارلیمانی بورڈ کرے گا جو ابھی تک بنا بھی نہیں ہے. اسکے علاوہ خان صاحب نے محترمہ کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر اچھی خاصی جھاڑ پلائی ہے اور خان صاحب نے اسے اسکی کارکردگی کے متعلق بھی پوچھا ہے اور امیر مقام سے ملاقات پر بھی محترمہ کی سرزنش کی ہے.

مصدقہ اطلاعات کے مطابق محترمہ نے مسلم لیگ ن کے امیر مقام سے معاملات پہلے سے طے کرلیئے تھے اور یہ سب ڈرامہ کرنیے کی قیمت جو کہ 50 کروڑ بتائی جاتی ہے وہ بھی وصول کرچکی ہے. پیسے لینے کا زکر ٹی وی اینکر جناب عارف نظامی نے بھی کیا۔ اسکے علاوہ مسلم لیگ ن کی طرف سے اسکو این اے 1 کا ٹکٹ بھی دیا جائے گا. پریس کانفرنس میں اسکا لالچی والد اسکو ایک ایک بات بتارہے تھے. اور جیو کی طرف سے 3 سینئر صحافی بھی موجود تھے. انتہائی مزے کی بات وہ یہ کہ آج ریحام خان کے قریبی رشتہ دار جو کہ انکے میڈیا کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں اس پریس کانفرنس میں موجود تھے.

باقی مسلم لیگ نواز اور اسکے ہمنواؤں کو دام لگانے کا کام بہت اچھی طرح سے آتا ہے. لیکن شائد وہ یہ بھول رہے ہیں کہ یہ اکیسویں صدی ہے اور میڈیا آزاد ہے. تحریک انصاف کے کارکن اور پاکستانی اب باشعور ہوچکے ہیں. خان صاحب پر الزامات لگا کر یہ مفاد پرست اور بے غیرت ٹولہ عوام کے دلوں میں عمران خان کی عزت کم نہیں کرسکتے ہیں.