عمران خان کی منی ٹریل اور بیہودہ لوگ By Muhammad Tahseen

Created on Thursday, 27 July 2017 17:48 | 478 Views
  • Print
  • Email

imran khan ki money trail by Muhammad Tahseen

عمران خان پاکستان کی سپورٹس ہسٹری کے عظیم لوگوں میں سے ایک ہے۔ سترہ اٹھارہ سال کی عمر سے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ پچیس سال کرکٹ کھیل کر اسی کی دہائی میں لندن میں صرف ایک گھر بنایا۔ وہ بھی بیچ کر اس کا پیسہ پاکستان لایا اور بنی گالہ میں ایک بنجر پہاڑی پر جگہ خریدی جو ناتو کمرشل تھی اور ناہی ریزیڈینشیل۔ وہ جگہ زیادہ ہے لیکن ساری کی ساری تعمیر شدہ نہیں۔ ایک عام سادہ سی تعمیر ہے۔ جو لوگ وہاں جاچکے ہیں بخوبی جانتے ہیں۔ یہ عمران خان کی کل کمائی ہے جو اس نے ساری زندگی کرکٹ کھیل کر بنائی۔ عمران خان نے پاکستان کے سب سے بڑے چور پر ہاتھ ڈالا تو یہ کم ظرف لوگ اس ایک گھر کے بھی پیجھے پڑ گئے حالانکہ عمران خان نے جب لندن والا گھر یا اسے بیچ کر بنی گالا میں گھر بنایا تو وہ نا کبھی سرکاری ملازم رہا تھا اور نا ہی کوئی پبلک آفس ہولڈر کے کرپشن کرتا۔ چلیں بے شرم اور بیہودہ لوگوں کی تسلی کے لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ جب اسی کی دہائی میں عمران خان نے لندن میں گھر خریدا تو اس وقت وہ کوئی چیریٹی بھی اکھٹی نہیں کرتا تھا۔ شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈریزنگ نوے کی دہائی میں شروع ہوئی۔

خیر عدالت میں کیس ہوا تو عمران خان نے لندن فلیٹ کی خریداری، پھر اس کی فروخت، پیسے کی پاکستان منتقلی، بنی گالہ زمین کی خریداری تک کا سارا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔ بے شرم اور کم ظرف لوگوں نے اس پر ایک مزید پٹیشن ڈال دی کہ لندن والا گھر کسی پیسے سے خریدا تھا اس کا بھی ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ کھلاڑی کوئی بزنس پرسنز تو نہیں ہوتے کہ اتنا پرانا ریکارڈ مینٹین رکھیں اور نا ہی ان کو ہائر کرنے والی کاؤنٹیز یا کلب کہ وہ اپنے کسی کلب یا کاؤنٹی کرکٹر کا تیس چالیس سالہ حساب کتاب سنبھال کررکھیں جبکہ وہ ہر سال سینکڑوں نئے کنٹریکٹس کرتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ پیسہ حلال کا ہو تو رسیدیں مل ہی جاتی ہیں۔ سو اب سے چند گھنٹے پہلے سسکس کاؤنٹی نے عمران خان کو کی گئی ادائیگیوں کا سارا بینکنگ ریکارڈ بھی فراہم کردیا ہے جو کل سپریم کورٹ میں جمع کروایا جائے گا۔ یوں ایک بار پھر اس کیس میں بھی نون لیگ اپنے منہ پر کالک ملے سپریم کورٹ سے باہر آئے گی۔ اور عمران خان جس کی ایمانداری کی مثال ساری دنیا دیتی ہے مزید کلیئر ہوکر ہمارے سامنے آئے گا۔

وہ لوگ جو عمران خان پر پر الزام لگا رہے تھے اور نواز شریف جیسے ثابت شدہ چور کی مسلسل حمایت میں لگے ہیں ان کے لیے بھی ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ اپنے لیڈر کو جسے وہ دنیا کا سب سے بڑا بزنس مین اور جدی پشتی قارون سے بھی زیادہ امیر بتاتے ہیں اس کی کل منی ٹریل ایک قطری شہزادہ نکلا جو خود بھی کرپٹ ہے جبکہ ایک کرکٹر جسے اپنی آمدنی کا ریکارڈ مینٹین رکھنے کی خاص ضرورت بھی نہیں تھی اس کی ایک ایک رسید موجود ہے۔

(محمد تحسین)