ضمیر کا قیدی سالار سلطانزئی By Imran Durrani

Created on Friday, 26 May 2017 07:45 | 673 Views
  • Print
  • Email

zameer ka qaidi by Imran Durrani


حق بات پہ کٹتی ہے تو کٹ جائے زباں میری

اظہار تو کرجائے گا جو ٹپکے گا لہو میرا !

کل پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے سرگرم کارکن سالار سلطان زئی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی تحویل میں رکھ کر بہت دیر تک سوالات پوچھے، سالار کو آج بمعہ اپنے لیپ ٹاب و موبائل فون حاضر ہونے کا کہہ کر رہا کردیا گیا ۔ (اللہ بہتر جانتا ہے اسوقت سالار کہاں ہے اور خبر ملی ہے کہ اسے ایف آئی نے گرفتار کر رکھا ہے) ابھی تک مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ ایف آئی اے نے سالار سے کس قسم کے سوالات پوچھے اور آج وہ اس سے کیا بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں مگر سالار کے ہی ایک ٹویٹ سے پتہ چلا ہے کہ اسے کسی صحافی نے بتایا کہ ایک لسٹ جاری کی گئ ہے جس میں دیگر کارکنوں کیساتھ اسکا نام بھی شامل ہے سالار نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ایف آئی اے والے اسکے لیپ ٹاپ کی جانچ پڑتال کرنا چاہتے ہیں جس میں اسکی پرسنل تصاویر کے علاوہ کچھ نہیں ہے سالار نے تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے ملنے والی حمائت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

حکومت نے سوشل میڈیا پر پولیٹیکلی ایکٹیوسٹ کے خلاف ایک بڑے آپریشن کے زریعے کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پہلے ہی خبریں گرم تھیں اور حکومت کی جانب سے ایف آئی اے کو ملنے والی ہدایات اور اس پر عملدرآمد کیلیے بلآخر سالار سلطان زئی انکا پہلا نشانہ بن کر سامنے آیا اور حکومت کی گھناؤنی سازشوں کا شاخسانہ ہوا۔ اسوقت سالار کے علاوہ نا جانے کتنے لوگ گرفتار ہوچکے ہیں ہمیں اسکا اندازہ نہیں ہے۔

پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ میں سخت رسوائی کا سامنا کرنے والی نون لیگی حکومت اسوقت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں نے ڈکٹیٹر ضیاء کی یاد تازہ کردی جب اظہار رائے، تقریر و نشریات پر پابندی عائد تھی ان دنوں آئین معطل تھا اور ڈکٹیٹر اپنی مرضی کے قوانین کے زریعے حکومت چلا رہا تھا ، سیاسی مخالفین کو زودوکوب کرنے کیلیے حکومتی اداروں کا بے دریغ استعمال کررہا تھاـ آمرانہ راج قائم کرکے اس نے آئین پاکستان کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر معطل کردیا تھاـ وہ آمر کا دور تھا نا چاہنے کے باوجود بھی ہضم کرنا پڑا مگر اسوقت تو حکومت جمہوریت کے چیمپینز کی ہے آئین بھی معطل نہیں مگر پھر بھی آئین کا آرٹیکل ۱۹ معطل کیونکر ہے؟ حالانکہ خود کو جمہوری کہنے والوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط بھی کررکھے ہیں جس میں سب نے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ آئین کی پاسداری کیجائے گی مگر درحقیقت ایسا نہیں ہے آرٹیکل ۱۹ کیمطابق آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی تک ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن حکومت کے اقدامات نے ثابت کردیا ہے کہ یہ سب کتابی باتیں ہیں عملا کچھ نہیں۔ ڈکٹیٹر کے سیاسی وارثوں کا آئین سے کیا واسطہ اسی لیے ان لوگوں نے آئین کا پاس تو کیا میثاقِ جمہوریت کا بھی کیا پاس رکھنا تھا؟ (پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی موجودہ حکومتوں کی کارکردگیوں سے واضح ہوچکا ہے انکا اصل مقصد حکومتی بندر بانٹ کیعلاوہ کچھ نہیں ہے)۔

پاکستان کی نوجوان نسل کی اکثریت کی خواہش ہے کہ انکا وطن پاکستان بھی دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانه کھڑا ہو اور مقابلے کی فضا میں وہ بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیںـ مگر جہالت کو فروغ دینے والے حکمران ملکی ترقی کے سب سے بڑے دشمن ثابت ہوئے ہیںـ بہرکیف نوجوانوں کی اکثریت اسوقت سیاسی شعور سے آگاہی رکھتی ہے اور پڑھا لکھا طبقہ ملک میں تبدیلی کیلیے جدوجہد کررہا ہے اسکے لیے ضروری ہے کہ عوام کو اظہار رائے کی مکمل آذادی ہونی چاہیے اور معلومات تک رسائی بھی۔

اخبارات، موبائل فونز، انٹرنینیٹ ایسی ایجادات کے زریعے دنیا اسوقت گلوبل ویلج بن چکی ہے سوشل میڈیا کے زریعے بڑے بڑے کام چٹکی بجانے سے ہوجاتے ہیں اور دنیا جہاں کی خبریں منٹوں میں ہر خاص و عام تک پہنچ جاتی ہیں ـ آج کے دور میں دنیا کے بہت سے انقلابات اسی سوشل میڈیا کے زریعے بنتے نظر آئے جنکے اصل محرکین بھی سوشل میڈیا سے وابسطہ لوگ ہی رہے۔ پاکستان میں یہ اعزاز صرف تحریک انصاف کو ہی حاصل ہے کہ جب عمران خان گلی محلوں میں تبدیلی کا پیغام لیے سرگرم ہوئے انکے ساتھ انکی سوشل میڈیا ٹیم بھی اس کام میں انکے ساتھ رہی پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم عام لوگوں تک تحریک کا پیغام پہنچاتی رہی اور چند لوگوں کی سیاسی تحریک اسوقت کروڑوں لوگوں کی تحریک بن چکی ہے شائد یہی بات مخالفین کو کھٹکتی ہے۔ کبھی اِن لوگوں کا دعویٰ تھا کہ وہ ملک کی سب سے بڑی جماعتیں ہیں اسوقت اپنی بقا کیلیے تگ و دو کررہی ہیں اسوقت پاکستان میں عمران خان کے علاوہ دوسرا کوئی سیاسی راہنما ایسا نہیں جسکی مقبولیت عمران خان سے زیادہ ہو بلکہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ فالونگ بھی صرف عمران خان کی ہی ہے ـ

تحریک انصاف کی سوشل میڈیا باقاعدہ ضابطہ اخلاق کی پابند ہے اور سوشل میڈیا ٹیم میں شامل ہونے والے تمام ممبران کو باقاعدہ تربیت کے مراحل سے گذار کر ہی یہ اہم زمہ داریاں سونپی جاتی ہیں جنکے زمہ اخلاقیات کو مدنظر رکھنا سرفہرست ہوتا ہے اور انہی پیراوں پر وہ کام کرکے تحریک کے پیغام کو مرتب کرتے ہیں۔ جب سے پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا ہے حکومت حیلوں بہانوں سے سوشل میڈیا کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کبھی کہا جاتا ہے کہ فیس بک بند کردی جائے گی تو کبھی ٹوئٹر کی چڑیا کو قید کرلیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے ملک دشمنی کا بہتان لگا کر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کی ٹیم کیخلاف کاروائیاں شروع کرنا حکومت کی بدنیتی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

شہداء کے خون سے پروان چڑھنے والی تحریک انصاف پہلے ہی نامسائد حالات سے دوچار ہے اور حکومت کا ہر محاز پر مقابلہ کررہی ہے اس پر گرفتاریوں کا یہ نیا سلسلہ کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتا حکومت پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ پر دباو ڈالنے کیلیے تمام اوچھے اقدامات کررہی ہے تاکہ لوگوں کی توجہ کسی اور طرف منتقل کی جاسکے یہ سب کچھ حکومت کی سیاسی شکست و ریخت و ہزیمت کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کرے۔ تحریک انصاف کے کارکن مستعدی ہمت و حوصلے کیساتھ اپنے قائد کیساتھ جانفشانی سے اپنے مقصد کیساتھ منسلک ہیں انکا کہنا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے ہرگز ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مجھے سالار کا کیا ہوا ایک ٹویٹ بہت پسند آیا جسے میں یہاں نقل کررہا ہوں۔

راہ الفت میں گو ہم پر بہت مشکل مقام آئے

نہ ہم منزل سے باز آئے نہ ہم نے راستہ بدلا

زمانہ معترف ہے اب ہماری استقامت کا

نہ ہم سے قافلہ چھُوٹا نہ ہم نے رہنما بدلا۔