اندھا کالم By Saqib Malik

Created on Saturday, 06 May 2017 17:14 | 537 Views
  • Print
  • Email

andha column by saqib malik

" اندھا کالم"

فوج پر تنقید ضرور کریں، بس افسران اور جوانوں کی تفریق دھیان میں رہے.

فوجی جوان ہمارے آپکے گھر میں رہتا ہے.

اسکا خون آپکے میرے خون جیسا ہے.

ہمارے اور انکے دل ایک ہی ملی نغمے پر دھڑکتے ہیں.

ہم اور وہ عوام ہیں.

اعلی ترین افسران دراصل سیاست کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں. سیاست دان دراصل اعلی ترین افسران ہیں. یہ میرے اور آپکی قسمتوں کے فیصلوں کے ذمہدار ہیں. ہم تو خدا کو نہیں بخشتے اس سے بھی شکوہ کرتے ہیں تو مقدس گائے تو ہمارے لئے صرف بھارت میں ہونی چاہیے انکی گاؤ ماتا، ہماری مقدسگائے، جمہوریت بھی نہیں ہے. ہماری مقدس گائے یہ زمین ہے. اسی میں اللہ نے ہمیں پیدا کیا. اسی میں اللہ ہمیں مارے. اسی کے لئے ہم جئیں. اسی کے لئےہم مریں.

میں فوجی جوان اور افسران کی تفریق پیدا نہیں کر رہا کیونکہ میرے نزدیک سارے افسران شیطان ہیں اور سارے جوان فرشتہ، ایسا نہیں ہے. ہمارے افسرانبھی جان دینے والے ہیں. لیکن اس ملک کی تاریخ ہے کہ جو جتنا بڑا فیصلہ ساز رہا وہ اتنا ہی بیکار رہا. بس یہی ذمہ داری والے مخاطب ہیں. آپکے بتہونگے. آپکے ہیرو ہونگے میرا ہیرو قائد اعظم مر چکا. وقتی امیدیں وابستہ ہیں مگر وہ بس ایک پڑاؤ ہے. میرا خواب سپر پاور پاکستان ہے. میرا مقابلصرف میرا ہمسایہ بھارت نہیں ہے. میں تو دنیا پر پاکستانی قوم کی سر بلندی چاہتا ہوں.

مجھے راستوں سے زیادہ منزلوں سے غرض ہے.

مگر میرے راستے میرے منتخب کردہ ہونے چاہئیں. آپکی وردی کے رنگ اور بوٹوں کی دھمک کی لرزش اور جعلی ووٹوں کی جعلی چمک سے میریآنکھوں کو چندھیانے کی کوشش کب تک چلے گی؟

مجھے سیاسی شہید نہیں چاہیئے.

مجھے زبردستی کا صدر نہیں چاہئے.

میرے عزیز ہم وطنو!!

آخر تم کب جاگو گے؟

شاید کبھی نہیں. تمھارےعمل تَخلیق یا جینز میں اٹھنے کی سکت ہی نہیں رہی. مہنگائی، بیروزگاری، ذلت، غربت، نا انصافی، احساس کمتری، جہالت، توہمپرستی، مسلک پرستی اور ظلم کے ہاتھوں ڈسے تم لوگ صرف مظلومیت کے بھونپو بن چکے ہو. تمھاری تسکین تمھاری مظلومیت ہے. اپنے نوحے تمھارےلئے جام شریں ہیں. تم مظلوم بن کر مردگی کی سانسیں لیتے رہو. لیکن اس قوم میں وہ انسان بھی ہیں، خون جن میں رواں ہے اور جو آنے ہیں جو پیدا ہونےہیں جنھیں اعزاز ملنا ہے. وہ یقیناً آئیں گے.

غلاموں تم تب تک ظلم سہو کہ وقت جب آتا ہے تو کوئی انقلاب کوئی تبدیلی کوئی ہیرو پھر رکتا نہیں.

وقت ہمیشہ آتا ہے اس پر آتا ہے جو نیت اور قابلیت کا وہ امتزاج پا لیتا ہے جس کا نسخہ آج تک راز میں ہے.