ایک سوال ہے۔ کتے کیوں پالے جاتے ہیں ؟ By Mohd Abdhu

Created on Saturday, 18 March 2017 15:54 | 430 Views
  • Print
  • Email

ik sawal hai by mohd abdhu

ایک سوال ہے۔ کتے کیوں پالے جاتے ہیں ؟

جواب ہے تاکہ وقت آنے پر کتے بھونک سکیں۔

نواز شریف کو صرف کتے پالنا ہی نہیں آتے بلکہ کتوں کو وقت کیا بےوقت بھوکنا بھی آتا ہے۔ وقت پر بھوکنے والے

پالتو اور بےوقت بھوکنے والے آوارہ یا پاگل کتے ہوتے ہیں۔ پاگل کتے کو پتہ ہوتا ہے میں کسی وقت بھی مار دیا جاؤں گا اس لئے وہ سامنے آنے والے ہر کسی کو بھونکتا اور کاٹتا ہے۔ تاکہ مرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کاٹ لے۔ان پالتو آوارہ اور پاگل کتوں کا ایک ہی علاج ہوتا ہے جو مراد سعید نے جاوید لطیف کا کیا ہے۔ یہ تو ہے وہ جواب جو فوری ردعمل میں فطری طور پر آتا ہے اور پاگل کتے سے بچاؤ کیلے آنا بھی چاہئے۔

دوسری بات۔ مراد سعید آپ نے ٹھیک کیا مگر بعض دفعہ صحیح وقت پر صحیح کام کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس واقعہ پر بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس سے بھی زیادہ اچھا ہوتا اگر برداشت کرتے اور برداشت ایسے ہی موقع کیلے ہوتی ہے۔ نون لیگ اس وقت اپنی ذہنی حالت میں اس جگہ پہنچ چکی ہے جہاں وہ قریب سے گزرنے والے ہر کسی کو چھیڑ کر میڈیا میں ہیجان اور غصہ پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ اس کے عقل و سوچ سے عاری ذہنی غلام کسی ممکنہ غیر ممکنہ فیصلے کے جواب میں طوفان بدتمیزی کی انتہا کردیں۔ اور دیکھا نہیں پچھلے چند دنوں سے میڈیا میں کیا کیا گیا ہے۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مراد سعید کو چاہئے تھا وقتی اشتعال کی بجائے صبر و تحمل سے کام لیتے۔ فوری جواب کی بجائے یہ سارا معاملہ بھرپور طریقے سے میڈیا میں استعمال کرتے اور پوری تحریک انصاف میڈیا کو ساتھ ملا کر ن لیگ کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کردیتی۔ مراد سعید کے فوری جواب سے جو ن لیگ چاہتی تھی وہی ہوا اور اب پھر تحریک انصاف کا میڈیا ٹرائل شروع ہوجائے گا۔

تحریک انصاف کے لیڈرو یاد رکھو ! صرف ایمانداری اور نیک نامی سے حکومت ملتی تو نواز ہزار سال تک حکومت نا بنا سکتا۔ یاد رکھو۔ ن لیگ تمھارے خلاف پیسے طاقت دھونس دھاندلی بدمعاشی میڈیا دلال کے اسلحے سے لیس حملہ آور ہے اور اسکا جواب صرف ایمانداری کے نعرے سے نہیں دیا جاسکتا۔ آج جو ہوا یہ آغاز ہے اور نا ہی اختتام۔ اگلے کسی واقعہ پر پھر ایسا ردعمل دیکر اپنا تماشہ بنوانے کی بجائے ہر ممکنہ حل کی تیاری اور پراپیگنڈہ کا جواب اسی انداز سے دینے پر کام شروع کریں۔