نواز ، بینظیر ایک تاریخی اتحاد ، آئینے کا صحیح رخ میں گزشتہ کئ ماہ سے پوری پاکستانی قوم کی طرح ایک کشمکش کا شکار رہاہوں۔ بزرگوں کی ایک کہی ہوئی بات بار بار مجہے سوچنے پر مجبور کرتی رہی ہے کہ ٹیڑھی دم کبہی سیدھی نہیں ہوا کرتی اور اسے کاٹنا ہی واحد علاج ہے، مگر میں سوچتا اور مسکراتا اور اپنے من میں کہتا کہ پاکستان کی بدلتی ہوئی صورت حال آج بزرگوں کی کہی ہوئی اس کہاوت کو غلط ثابت کر رہی ہے، میں ٹفالگر اسکوائیر، پاکستانی ایمبیسی اور دیگر عالمی مظاہروں میں جب پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے پرچم ایک ساتہ لہراتے دیکہتا تہا تو اکثر پریشان ہو جایا کرتا تہا کہ جب کاتب وقت ہماری تاریخ درج کرے گا تو وہ اصول پرستوں اور مفاد پرستوں ميں فرق کی لکیر کیسے کہینچ سکے گااور یہی وجہ تہی کے میں نے ان میں سے کئ مظاہروں کا اپنی ذات تک بائیکاٹ بہی کیا، کیا کبہی آسمان اور ز؛مین بہی ایک ہوا کرتے ہیں؟ مگر آج مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی فضل الرحمن اور عوامی نیشنل پارٹی نے جب الیکشن کی حمایت کا اعلان کیاتو مجہے دلی سکون اور تسلی ہوئی کیوں کے ان جماعتوں کے اس فیصلے نے سیاہ و سفید کا فرق آج واضع کر دیا ہے، اور قوم کو آئینے کا صیحیج رخ غلطی سے دیکہا ہی ڈالا۔ اور قوم جوایک عرصے سے یہ سوچ رہی تہی کہ ان سیاستدانوں نے شاید ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا ہے اور شاید یہی وجہ تہی کہ واقعہ 9 مارچ ہو یا سانہ 12 مئی یہ تمام جماعتيں قوم اور عدلیہ پر ہونے والے تمام مظالم کے خلاف عوام اور وقلاع کے ساتہ سڑکوں پر باہر آئی مگر آفرین ہو عمران خان جیسے قوم کے مخلص سیاستدانوں پر جو ان پارٹییوں کی اصل نیتوں سے اچہی طرح واقف تہے کہ یہ مگرمچہ کے آنسوں ہیں یہ لیڈر عوام کا درد نہیں بلکہ آئیندہ آنے والے انتخابات میں اپنی مردہ پارٹیوں کو دوبارہ زندہ کرنے میں مصروف ہیں اور صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کی پرویزمشرف سے ضمانت چاہتے ہیں اور جسکے لیۓ بینظیر نے کبہی دبئی اور کبہی لندن میں حکومت کے ساتہ ڈیلیں بہی کیں اور کراچی آمد پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی قاتل جماعت ایم کیو ایم کا ریلی کے انتظامات پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ بہی ادا کیا، جسکا خمیاذہ اسی دن شام کو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے دوبارہ بگہتا اور میاں نوازشریف بہلا اس دوڑ میں کیسے پیچہے رہ سکتے تہے کیوں کے ان کے ملکی لوٹ کہسوٹ کے کارنامے بی بی سے کہی کم تو نہیں اسلیۓ انھوں نے بہی سعودی عرب میں بیٹہکر مشرف کے ساتہ الیکشن کا بائیکاٹ نہ کر نے کی ایک عدد ڈیل کر ڈالی۔ اور یہی وجہ تہی کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے تمام میڈیا کی موجودگی میں اپنے انتخابی کاغدات کو پہاڑ ڈالا اور ان مفاد پرست سیاستدانوں کو سر عام للکارا اور اصول پرستوں اور مفاد پرستوں کے درمیان واضع لکیر کہیھنچ ڈالی کہ اگر واقعی فکر عوام و انصاف کی ہے تو کسی سیاسی پارٹی کو پی سی او کے تحت الیکشن میں حصہ نہیں لینا چاہیۓ ، آئین پاکستان ، عدلیہ اور میڈیا کو مکمل آذاد کرکے ایک آزاد الیکشن کمیشن کو قائم کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات عمل میں آسکیں نہ کہ ڈیلز کے تحت دوبارہ بندر بانٹ کی جاسکے اور ملکی خزانہ لوٹ کر سوئیز بنکو کو بہرنے والوں کو ایک اور موقع اور دیا جاسکے میری ناکس راۓ میں بی بی اور شریف برادران کبھی بھی چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری ، رانا بھگوان داس اور انکی ٹیم کی بھالی کے مطالبے پر راضی نہیں ہو سکتے کیونکے ان ججز کی بہالی جہاں قوم کی خوشحالی کی ذمانت ہے وہی ان ٹیڑہی دموں کے ٹوٹنے کا پیغام بہی ہے کیوں کہ ان ججز نے ہی کسی قسم کے مفاہمتی آرڈیننس کونہ مانےکا اصولی فیصلہ کیا تہا اور اسی لیۓ میں سمجہتا ہوں کہ بی بی شریف اتحاد پاکستان کے دو بڑے کرپٹ سیاستدانوں کا ایک تاریخی اتحاد ہے جسکو پاکستان کی عوام ہمیشہ یاد رکہیں گے اور نہ صرف ان انتخابات میں بلکہ آئیندہ آنے والے تمام انتخابات میں اس کرپٹ الائینس کو الیکشن کا بائیکاٹ کر کے بہرپور طریقے سے ناکام بنادینگے میري تمام اصول پرستوں سے گزارش ہے کہ وہ اس بحث میں وقت برباد کرنے کی بجاۓ کہ انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ صحیح ہے یا غلط اپنے ظمیر کی آواز کو سنیں اور ماضی کی ایسی قائم کردا اسمبلیوں سے سبق حاصل کریں۔ آج کے انتخابات میں حصہ لینے والوں کا یہ آخری انتخاب ہے اور یقین مانیں کہ ایسی اسمبلیوں کی مدّدت صرف سال یا چہ ماہ سے زیادہ نہیں ہوا کرتیں اور ایسے انتخابات میں کامیاب ہونے والوں کی نہ توکسی قسم کی وزارت کی کوئی حیثیت ہوا کرتی ہے اور عوام ہمیشہ ایسے ممبران اسمبلیز کو لوٹے کے نام سے ہی یاد کیا کرتے ہیں جنکی پاکستان کو ہرگز ہرگز ضرورت نہیں By Zahid Hussain Organiser (PTI) High Wycombe Web Coordinator (MFJ) UK Contact: mob: 07737546436 |