انقلاب تواب آکر رہے گا تبدیلی اور انقلاب کی بازگشت آج سے پہلے شاید اتنی کبھی نہ سنی گئی ہو ۔ ہر سیاست دان اور ہر سیاسی جماعت حتیٰ کہ ایک عام شخص آج صرف انقلاب ہی کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ خونی انقلاب کی متحمل ہماری قوم ہو نہیں سکتی تو یہ انقلاب انتخابات ہی لا سکتے ہیں۔ اس پر مزید بات کرنے سے پہلےمیں پچھلے انتخابات کے کچھ حقائق اور اعدادوشمار آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ کل ووٹرز کی تعداد ۸۰۹۱۰۳۱۸ ڈالے گئے ووٹ ۳۴۶۳۷۵۲۲ یعنی صرف ۴۱ فی صد ووٹرز نے اپنا حق راے دہی استعمال کیا۔ پیپلز پارٹی نے ۱۰۶۶۶۵۴۸ ووٹ حاصل کئے جوکہ ڈالے گئے ووٹوں کا محض ۳۱ فیصد ہیں۔ اگر کل ووٹوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کو صرف ۱۳ فیصد عوام کی حمایت نے مسند حکومت پر براجمان کرا دیا۔ ہمارے ملک کے ۶۰ فیصد ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال ہی نہیں کرتے جس کی ممکنہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں: ۱۔ موجودہ انتخابی طریقہ کار پر بے اعتمادی ۲۔ موجودہ سیاسی قائدین پر اعتماد کا فقدان ۳۔ ووٹ کا استعمال ضروری نہ سمجھنا (کسی بھی وجہ سے)۔ جو لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں ان کی بھی تین قسمیں ہیں: ایک وہ جنھیں diehard ووٹرز کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جو اپنے ’آقا’ کی جنبش ابرو کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں اور تیسرے وہ ہیں جو ہر بار دو بڑی پارٹیوں کو ’واریاں’ دیتے ہیں۔ ہر بار یہی امید کہ شاید یہ ہوش کے ناخن لی چکے ہوں۔ مندرجہ بالا اعداوشمار پر غور کریں تو ایک بات واضع ہے کہ ایک پْرامن انقلاب بذریعہ انتخاب صرف تب ہی ممکن ہے جب اس خاموش اکثریت کو جگایا جائے۔ انھیں گھر سے نکلنے پر مجبور کیا جائے اور انقلاب کا حصہ بنایا جائے۔ اور اس گلے میں گھنٹی صرف میڈیا ہی باندھ سکتا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنا وقت اور صلاحیتیں جھوٹے فریبی سیاست دانوں کے ٹالک شوز پر ضائع کرنے کی ببجائے قوم کو یہ باور کرا دیں کہ دراصل اسلامی اور دنیاوی نقطہ نظر سے ووٹ کی کیا اہمیت ہے، اور ان کا ایک ووٹ قوم کی کتنی مشکلوں اورپریشانیوں کا حل ثابت ہو سکتا ہے۔ پر امن انقلاب کی دوسری اہم ضرورت الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہے۔ تحریک انصاف جیسی صاف شفاف اور بے داغ سیاسی جماعتیں یہ کام میڈیا کی مدد سے سر انجام دے سکتی ہیں۔ تمام جلسے جلوس روک کر صرف الیکشن کمیشن کی آزادی کےلئے دھرنے دیں اور جلوس نکالیں۔ میڈیا کی مدد کے بغیر یہ کام بھی آسان نہ ہو گا۔ انقلاب تو اب آکر رہے گا ۔ لیکن بحیثیت قوم ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آئندہ ہمارا قاعد وہ ہوگا جو قوم سے جھوٹ نہ بولے، اپنی دولت کا استعمال اپنے ملک میں کرے، مفاہمت کے نام پر اپنے مفادات کا پجاری نہ ہو، جمہوریت کی حفاظت کی آڑہ میں اپنی واری کا انتظار نہ کرے، قوم کے جذبات بھڑکانے کے لیئے رٹے رٹاۓ انقلابی نعرے نہ لگاۓ۔ کسی کو بھی اپنا قائد نامزد کرنے سے پہلے یہ بھی جان لیا جائے کہ دین اور دنیا کے مرتب کردہ اصولوں کے مطابق ایک قائد کا طرز عمل اور اس کی شخصیت کن خوائص و اطوار سے مزین ہونی چاہیئے ۔ انقلاب تو اب آکر رہے گا ۔ |